ابنا: ایران پاکستان ہندوستان گیس پائپ لائن کی شروعات 1994 میں ہوئی لیکن 2009 میں ہندوستان اس منصوبے سے الگ ہوگیا تاکہ امریکہ کے ساتھ سول جوہری معاہدہ کرسکے۔ماہرین کے مطابق اگر حالات مناسب رہے تو یہ منصوبہ پندرہ مہینوں میں ختم ہوجائے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے علاقے میں پائپ لائن ڈال لی ہے جبکہ 785 کلومیٹر لمبی پاکستان سیکشن کی پائپ لائن ڈالنا جلد شروع ہوگی۔ پاکستان کا ایران سے اکیس اعشاریہ پانچ ملین کیوبک میٹر گیس روزانہ ایران سے درآمد کرنے کا منصوبہ ہے۔پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا گیارہ مارچ کو افتتاح کروں گا۔انہوں نے ایک بارپھر امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو پاکستان کو درپیش مسائل کا ادراک ہونا چاہیئے صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے ہماری اولین ترجیح پاکستان اور ملک کا قومی مفاد ہے،پاکستان امن کے ساتھ اقتصادی ترقی کا خواہاں ہے۔ آئیے سنتے ہیں معروف اقتصادی ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی اس موضوع پر کیا اظہار خیال کر رہے ہیں سامعین جیسا کہ پاکستان کے معروف اقتصادی ماہر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اپنی گفتگو میں اشارہ کیا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے لیکن امریکہ ہرگز نہیں چاہتا کہ پاکستان اور خطے میں اقتصادی بہتری آئے ۔ پاک ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ سے نہ صرف پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ دو اسلامی اور برادر ملکوں کے درمیان تعلقات میں بھی مزید فروغ آئے گا ۔ امریکہ عرصے سے اس کوشش میں ہے کہ علاقے کے بعض ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ذریعے پاکستان میں ایران مخالف فضا کو جنم دے اور اس سے اپنے مفادات حاصل کرے امریکہ نے پاکستان کو اس وقت نہ صرف امن و امان اور دہشت گردی کے بحران سے مبتلا کررکھا ہے بلکہ بعض تجزيہ کار تو اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش میں بھی امریکہ ملوث ہے دہشت گردوں کے خلاف نام نہاد جنگ ہو یا ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کا بہانا امریکہ پاکستان کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہتا اور یہ استعمار کی قدیمی اور تاریخی پالیسی ہے ۔
.....
/169